نئی دہلی، 31/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) گزشتہ روز مرکزی حکومت نے کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو معمولی راحت دیتے ہوئے رسوئی گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں 200 روپے کی تخفیف کی ہے۔ اس پر بی جے پی بھلے ہی بغلیں بجارہی ہے لیکن اپوزیشن پارٹیوں نے مرکز پر شدید تنقیدیں کی ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اسے انتخابات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ’’قیمت میں تخفیف کے فیصلہ کو رکھشا بندھن کا تحفہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن جب گزشتہ ساڑھے نو سال سے400سو روپے کا سلنڈر1100 روپے میں فروخت کررہے تھے تب مرکز کو عوام اور ملک کی بہنوں کی یاد نہیں آئی ، اب ووٹ نہیں ملنے کا ڈر ستارہا ہے تو یہ فیصلہ کیا گیا۔ ‘‘ کھرگے نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ بی جے پی کی کمرتوڑ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کیلئے کانگریس پارٹی پہلی نے کئی ریاستوں میں غریبوں کے لئے صرف 500روپے میں سلنڈر دینے کا وعدہ کیا ہے اور کئی ریاستوں مثلاً راجستھان میں اسے نافذ بھی کردیا ہے۔ اس فیصلے سے بی جے پی چراغ پا ہے اوراسی لئے یہ فیصلہ کیا گیا ۔
سی پی آئی کے قومی سیکریٹری نارائنا نے اس قدم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی محنت کی کمائی لوٹنے والی بے رحم مودی حکومت اب ماؤں بہنوں سے جھوٹی ہمدردی ظاہر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی سرکار یہ بات سمجھ لے کہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کو ساڑھے نو سال تڑپانے کے بعد انتخابی لالی پاپ تھمانے سے کام نہیں چلے گا۔ سابق کانگریس لیڈرکپل سبل نے بھی اس فیصلہ پر طنز کیا اور کہا کہ ’’ ریوڑیاں بانٹنے پر طنز کرنے والے مودی جی کو بتانا چاہئے کہ یہ انتخابی ریوڑی ہے یا نہیں ۔‘‘